Saturday, 8 March 2014

نظم علامہ اقبال

آتی ہے دمِ صبح صدا عرشِ بریں سے
کھو گیا کس طرح ترا جوہرِ ادراک

کس طرح ہوا کند ترا نشترِتحقیق
ہوتے نہیں‌ کیوں تجھ سے ستاروں کے جگر چاک

تو ظاہروباطن کی خلافت کا سزاوار
کیا شعلہ بھی ہوتا ہے غلامِ خس و خاشاک

مہر و مہ و انجم نہیں‌ ترے محکوم کیوں
کیوں تیری نگاہوں سے لرزتے نہیں افلاک 

اب تک ہے رواں گرچہ لہو تیری رگوں میں 
نے گرمئ افکار ، نہ اندیشہ بے باک

روشن تو وہ ہوتی ہے ، جہاں بیں نہیں ہوتی
جس آنکھ کے پردوں میں نہیں ہے نگہ پاک

باقی نہ رہی تیری وہ آئینہ ضمیری
اے کشتہ سلطانی و ملائی و پیری

متفرق شاعری - علامہ اقبالؒ

کی حق سے فرشتوں نے اقبال کی غمازی
گستاخ ہے ، کرتا ہے فطرت کی حنا بندی
خاکی ہے مگر اس کے انداز ہيں افلاکی
رومی ہے نہ شامی ہے ، کاشی نہ سمرقندی
سکھلائی فرشتوں کو آدم کی تڑپ اس نے
آدم کو سکھاتا ہے آداب خداوندی

علامہ محمد اقبال کے اشعار جواب شکوہ سے

ہر کوئی مست مئے ذوقِ تن آسانی ہے
تم مسلمان ہو؟ یہ اندازِ مسلمانی ہے؟
حیدری فقر ہے ، نے دولت عثمانی ہے
تم کو اسلاف سے کیا نسبتِ روحانی ہے
وہ زمانے میں معزز تھے مسلماں ہو کر
اور تم خوار ہوئے تارک ِ قرآں ہو کر
(جواب شکوہ)

Wednesday, 22 February 2012

السلام علیکم

ٹیسٹنگ